زرق[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جھوٹ، مکر، مکاری، دھوکا، دغا، منافقت، بدگوئی۔  زرق و فریب و فند میں جس کا کوئی ثانی نہیں ریشہ دوانی میں یگانہ، خیرہ سر، تیرہ جبیں      ( ١٩٧٥ء، خروش خم، ٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: زَرْق
جنس: مذکر